سی سی ڈی

0

 سی سی ڈی نیفے میں پستول چلا رہی ہے۔ صحیح ہے یا غلط؟ کچھ انصاف پسندوں کا خیال ہے کہ صحیح ۔۔چند روشن خیال من چلوں کا کہنا ہے کہ پھر محاسبہ کرنے والے کا محاسبہ کون کرے گا ؟ شرعاً یا قانون میں اسکی حد پر بات نہیں کروں گی۔ مگر ایک عورت کیا اور کیسے سوچتی ہے۔ یہ بتاتی ہوں۔۔۔ اگر آپ عورت ہیں تو فوراً سمجھ جائیں گی اور اگر آپ مرد ہیں تو اسے محسوس کرنے کی کوشش کریں۔۔۔۔


آپ کہیں بھی ہیں۔ اچانک ایک اضطراری کیفیت پہلے آپ کو بے چین کرتی یے اور پھر بے اختیار آپ کو ایک سمت میں دیکھنے پر مجبور کرتی یے۔ آپ دیکھتی ہیں کہ کوئی آپ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ نگاہیں آپ کو غیر محفوظ کرنے لگتی ہیں کیونکہ آپ کی چھٹی حس ان کو ڈی کوڈ کر سکتی ہے۔ آپ اسٹریس میں ہیں۔ہزاروں نظروں میں بھی چھپی اس ایک نظر کو آپ دیکھ ، سمجھ اور محسوس کر سکتی ہیں ۔۔۔ اور اس نظر کا آپ پر گہرا اثر ہو رہا ہے۔ حالانکہ آپ کو کوئی بھی ہاتھ نہیں لگا رہا۔ مگر آپ بے چین اور بے آرام ہو گئیں ۔


۔۔۔ 

آپ کو کسی نے چھوا ہے۔۔۔ آپ کی مرضی کے بغیر۔۔۔۔ پہلے آپ کے جسم میں ایک کرنٹ دوڑتا ہے۔ جس سے آپ کی وہی کیفیت ہوتی ہے جیسے کرنٹ لگنے سے۔ جسم سن اور دھڑکن تیز۔۔۔ جیسے سینہ پھاڑ کر دل باہر نکل جائے گا ۔۔ دماغ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ کیا ہوا۔۔۔ کیوں ہوا؟ اور میرے ساتھ ہی کیوں ؟۔ ۔۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی جگہ نفرت اور غصہ لے لیتے ہیں ۔ نفرت اس انسان کے ساتھ ساتھ خود سے بھی ۔۔۔ اور غصہ صرف اس انسان پر ۔۔۔ کہ اسکی ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔ ایسے میں اگر اس انسان کو قابو کر کے آپ کو اسے اوور پاور کرنے کی اجازت دی جائے تو سب سے پہلے آپ اس کے منہ پر تھوکنا پسند کریں گی۔ اور پھر مارے نفرت کے اسے لاتیں یا ٹھڈے مارنا چاہیں گی۔ ہاتھ نہیں لگانا چاہیں گی۔ کیونکہ اس شخص نے ابھی ابھی اپنے غلیظ ہاتھ سے ہی آپ کی پرسنل اسپیس کراس کی ہے۔ اور آپ کے دماغ میں "ہاتھ" کو لے کر ایک کراہت بھرا احساس ہے۔ 

۔۔۔


کسی نے حد سے بڑھ کر آپ کو چھوا ہے۔ اب ایک دم غصے کا ایک ابال آپ کی سانس روک رہا ہے۔ آپ کی آنکھوں کے گوشے نم۔۔ جسم سن ۔۔ اور دھڑکن بے ترتیب ہے۔ مگر آپ اپنے آپ کو سنبھالنا چاہتی ہیں۔ ایک پل میں آپ کا سارا ایمرجنسی سسٹم اور سٹریس لیول ایٹکویٹ ہو گیا یے۔ کسی نے آپ کے سب سے زیادہ مقدس اثاثے۔۔۔آپ کے جسم کو غلط چھوا ہے۔ اس انسان نے ایک لمحے میں آپ کے دل میں دنیا جہاں کا ڈر بھر دیا ہے۔ اسی لمحے میں آپ کا دنیا پر سے اعتبار بھی اٹھ گیا ہے۔ آپ اب ہرایک آدمی سے نفرت محسوس کر رہی ہیں ۔۔۔۔ایسے میں اگر آپ کے ہاتھ میں ہتھیار دیا جائے تو آپ اسے اس شخص پراستعمال کرنے سے نہیں چوکیں گی۔

صرف ایک لاٹھی ہی پکڑا دی جائے ۔ آپ اسکی ہڈیاں ٹوٹنے تک اس پر وار کریں گی۔ 

۔۔۔۔


کسی نے آپ کے ساتھ زبردستی زیادتی کی ہے۔ آپ کے لیے زندگی کے معنی بدل چکے ہیں۔ آپ ساری عمر اس گھٹیا شخص کے ساتھ ساتھ خود کو بھی معاف نہیں کریں گی۔

 آپ کو وقت پیچھے لے جانا ہے۔ وہ سارا احساس خود سے اتارنا یے۔ وہ اذیت بھرے لمحات بھولنے ہیں ۔ وہ تمام حالات و واقعات بدلنے ہیں جو اس نتیجے کا باعث بنے ۔ ۔۔ مگر ایسا کچھ بھی ممکن نہیں۔

یہ بے بسی آپ کوبے چین رکھتی ہے۔ وہ گھن بار بار آپ کو گھیر لیتی ہے ۔۔ اور ساری عمر آپ ان لمحات کی قید سے کبھی نہیں نکل سکیں گی۔ آپ کو سمجھ نہیں آئے گی آپ کا قصور کیا تھا ۔۔ 

محض ہونا؟ تو پھر آپ ہیں ہی کیوں؟ 

کیا یہ جرم آپ کے کسی کرم کی سزا تھا؟ 

ایسے کیسے کر سکتا ہے کوئی؟

بار بار ذہن وہی ایک سین دہرائے گا۔ اس اذیت سے چھٹکارا ناممکن ہے۔ رگڑ رگڑ کر جسم دھونے سے بھی ناپاکی اور کراہت کا یہ احساس کم نہیں ہو گا۔۔۔۔ آئندہ آپ کے لیے کسی بھی انسان کا محض "چھونا" ہی ٹریگر ہے ۔۔۔ جیسے ایک ہرنی شکاری کو سامنے دیکھ کر ادھ موئی ہو جائے اور پھر ہمیشہ اسی لمحے میں قید ہو جائے۔  


جناب یہ ایک شخص کی ایموشنل موت تھی۔ 

۔۔


قصاص کیا ہے؟ موت کا بدلہ موت۔ اس ایک لمحے میں ایک لڑکی ہمیشہ کے لیے جذباتی طور پر قتل ہو گئی۔ وہ کبھی بھی پہلے جیسی بے فکری ، اعتبار کرنے والی اور دنیا کو اپنے لیے محفوظ سمجھنے والی نہیں رہے گی۔ اسکی نظریں ہمیشہ ایک ان دیکھے خوف کے ڈر سے کسی انہونی کا انتظار کریں گی۔ ۔۔ 

اب بدلے میں جس طاقت کے غرور نے اسکا قتل کیا ۔۔اس کا نیفے میں اُڑنا تو بنتا ہے ۔۔۔ 

اگر دنیا کی ایک بھی وکٹم خاتون کے ہاتھ میں آپ پستول اور سامنے مجرم کھڑا کر دیں تو وہ کبھی بھی اسے معاف نہیں کر پائے گی۔ 

اور ان سب اذیتوں کے ساتھ ان تمام خواتین کو ایک اور جنگ کا سامنا بھی رہتا ہے۔۔۔ شاید سارا قصور ان کا ہی ہے ۔۔ وہ اس جگہ تھیں ہی کیوں ۔۔۔ کپڑے کیسے تھے ۔۔۔ وقت کیا تھا۔۔۔کس کے ساتھ تھیں ؟ کسی نے ان کو ہی کیوں چنا۔۔۔۔ غلطی تو انکی بھی برابر ہے۔ کیونکہ قصور تھا یا نہیں۔۔۔ پر دو کی اس کہانی میں دوسری وہ تھیں۔۔۔۔

۔۔۔


اپنی بیٹیوں کو اعتماد ہی نہیں ہمت بھی دیں۔ انہیں اعصاب پر قابو رکھنے اور فوری پلٹ کر وار کرنے کے لیے جسمانی طور پر لڑنا سکھائیں اور اگر افورڈ کر سکتے ہیں تو ہتھیار چلانا بھی ضرور سکھائیں۔ فوری بچاؤ اور بدلہ لے پائیں گی تو سی سی ڈی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جب فوٹیج میں ہم کسی کو چھیڑ خانی کرنے پر عبرت کا نشان بنتے دیکھیں گے تب عورتوں کے دل میں سکون اور روشن خیال من چلوں کی زبان پر تالا پڑ جائے گا۔۔۔ کیونکہ سی سی ڈی کا عمل تو پتہ نہیں ۔۔۔مگر اپنا ڈیفینس تو سب کا قانونی حق ہے نا۔۔  


فاطمہ عمران

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

© 2023 جملہ حقوق بحق | اردو میڈون بلاگر ٹیمپلیٹ | محفوظ ہیں